موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
Powered by Blogger.
دلچسپ و عجیب و غریب
Recent
Flickr
Comments
Formulir Kontak
Wednesday, 14 December 2016
Monday, 12 December 2016
بیوی سے کیا گیا30 سال پرانا مذاق گلے پڑگیا
Manshah Mohsin
07:33
1 comments
07:33
1 comments
write your entire post or paragraph here and at the end close the HTML tag
بیوی سے کیا گیا30 سال پرانا مذاق گلے پڑگیا

مذاق کرنا سبھی کو پسند ہوتا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا ہو گا کہ برسوں قبل کیا گیا مذاق گلے پڑجائے۔ اسکاٹ لینڈ میں ایسا ہوا ایک شخص کے ساتھ جو تیس سال پرانے مذاق کی پاداش میں اب سزا بھگت رہا ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق چون سالہ رابرٹ بروک نے تیس سال پہلے یعنی انیس سوچھیاسی میں میں اپنی اہلیہ پرخالی بندوق تان کراسے خوفزدہ کیا تھا۔ مگربری قسمت کہ چند ماہ قبل اس نے یہ واقعہ اپنے ساتھی ورکرکے ساتھ شیئر کیا جس نے فورا پولیس کو رپورٹ کردی۔
پولیس نے اسکاٹ لینڈ کے نئے قانون کے تحت رابرٹ بروک کو تیس سال پہلے کیے گئے جرم کی سزا سنا دی اور اب بیچارہ رابرٹ 196گھنٹے بلامعاوضہ کام کی سزا بھگت رہا ہے، ساتھ ہی نئے قانون کے تحت سزا پانے والا پہلا مجرم بھی بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دو ہزارنو میں کلیئر ووڈ نامی لڑکی کو اس کے سابق دوست نے قتل کردیا تھا جس پر حکومت نے ایک نیا قانون ’’کلیئرزلاء‘‘ وضع کیا۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی شہری ماضی میں کیا گیا جرم پولیس کو بتا کردوسرے شخص کو سزا دلواسکتا ہے۔
بروک نے بیوی کوانیس سوچھیاسی میں ڈرایا تھا مگر اس کے بعد بھی ان کی شادی برقرار رہی۔ دو ہزار چودہ میں رابرٹ کی بیوی اسے چھوڑ کرچلی گئی تھی،پولیس کی جانب سے مقدمہ دائر ہونے کے بعد اس نے عدالت میں پیش ہو کر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایک روز میں بیڈ پر لیٹی تھی کہ بروک نے اچانک اچانک کمرے میں داخل ہو کرہاتھوں میں تھامی بندوق مجھ پر تان لی اور کہا کہبس اب بہت ہو گیا، ساتھ ہی اس نے ٹرائیگر دبا دیا۔ میں انتہائی خوفزدہ ہو کر چیخنے لگی گئی لیکن بندوق خالی تھی جبکہ رابرٹ مجھے روتا دیکھ کر ہنستا ہو اکمرے سے باہر نکل گیا۔
Wednesday, 7 December 2016
دماغ کو ہمیشہ اسمارٹ رکھنے والی 12 عادات
Manshah Mohsin
10:36
0
comments
10:36
0
comments
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جسم چاہے جتنا بھی مضبوط ہو اگر دماغی طور پر کمزور ہو تو دنیا میں آگے بڑھنے یا روشن مستقبل کا تصور تک ممکن نہیں مگر ذہنی صلاحیت کو عروج پر پہنچانے کے لیے
کوئی جادوئی گولی تو دستیاب نہیں تاہم سننے میں عجیب مگر انتہائی فائدہ مند عادات ضرور یہ کمال کرسکتی ہیں۔جی ہاں کچھ عادات دماغی افعال کو بہتر بنا کر عمر بڑھنے کے ساتھ ذہنی تنزلی سے تحفظ فراہم کرتی ہیں جبکہ کسی ٹاسک کے دوران توجہ مرکوز کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
تو دماغ کی صحت کے لیے ایسے ہی زبردست چیزوں کے بارے میں جانے جن کو مستقل طور پر اپنا لینے سے آپ سپرہیرو تو نہیں بن جائیں گے تاہم یہ ہر عمر میں آپ کو ذہنی طور پر جوان رکھنے میں ضرور مددگار ثابت ہوں گی۔
دانتوں پر اپنے کمزور ہاتھ سے برش کریں
اگر تو آپ اپنا دائیں ہاتھ کو زیادہ استعمال کرتے ہیں تو دانتوں کو برش کرنے کے لیے بائیں ہاتھ کو استعمال کریں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق دماغ کے دو حصے ہوتے ہیں یعنی دایاں اور بایاں، جس میں سے دائیں ہاتھ کے لیے بایاں اور بائیں ہاتھ کے لیے دایاں حصہ کام کرتا ہے۔ تو اگر آپ ورزش کے طور پر اپنے کمزور ہاتھ کو اسعمال کریں گے تو آپ کے دماغی حصوں میں نمایاں بہتری اور بڑھوتری آئے گی اس طرح عمر بڑھنے سے دماغی افعال میں کمی آنے کا امکان بہت کم ہوجائے گا۔
آنکھیں بند کرکے نہانا
ویسے تو پانی ڈالتے ہوئے سب کی آنکھیں بند ہوجاتی ہیں مگر اس پوری مشق کو ہی اگر آپ آنکھیں بند کرکے کریں تو آپ کا دماغ لمس کے احساس کو حرکت میں لے آئے گا یعنی چھو کر صابن لگانا یا ہٹانا وغیرہ۔ اس عمل کو کرنے سے بھی دماغی افعال میں تیزی آتی ہے۔
اپنی صبح کی سرگرمیوں کو تبدیل کرنا
مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق صبح کے وقت اپنی مختلف سرگرمیوں جیسے ناشتے کے بعد تیار ہونا، کسی نئے راستے پر چہل قدمی کرنا یا کچھ نہیں تو اپنے ٹیلیویژن کے چینیل ہی بدلتے رہنا یا بچوں کے پروگرامز یعنی کارٹون وغیرہ دیکھنا دماغی سرگرمیوں کو تیز کرتا ہے۔ اس سے دماغی کارٹیکس کے بڑے حصوں کی ورزش ہوجاتی ہے اور ایسی جگہوں پر بھی دماغ سرگرم ہوجاتا ہے جو عام معمول کے دنوں میں سوئے رہتے ہیں۔
کھانے کی میز پر نشستیں بدلتے رہنا
بیشتر خاندانوں میں ہر کوئی اپنی مخصوص نشستوں پر ہی بیٹھنا پسند کرتا ہے تاہم اس کو بدلنے کے تجربے سے دماغ کو فائدہ ہوتا ہے اور اس میں تنزلی کا امکان وقت گزرنے کے ساتھ کم ہوجاتا ہے۔
دیکھی بھالی اشیاءکو الٹا کردینا
اپنے خاندان، گھڑیوں یا کیلنڈر کو الٹا کردیں۔ عام طور پر آپ کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو دماغ کا بایاں حصہ اس کو شناخت کرکے توجہ دوسری جانب مرکوز کردیتا ہے، مگر کسی الٹی چیز کو دیکھنے سے دماغ کے دائیں حصے کا نیٹ ورک حرکت میں آجاتا ہے اور وہ اس الٹی چیز کی شکل، رنگ اور دیگر چیزوں کی ترجمانی کرنے میں لگ جاتا ہے۔
سونگھنے کی حس کا نیا استعمال
ہوسکتا ہے کہ آپ کو یاد نہ ہو کہ آپ نے دن کے آغاز پر کافی یا چائے کی مہگ سے کب آخری بار کچھ جانا تھا، تاہم دن کا آغاز کسی نئی خوشبو کے ساتھ کرنے سے دماغ کے اندر سرگرمیاں شروع ہوجاتی ہیں اور نئے دماغی راستے بننا شروع ہوجاتے ہیں، اس کے لیے آپ بس اپنے بستر کے قریب اپنی کوئی پسندیدہ خوشبو ایک ہفتے کے لیے رکھیں، جب صبح اٹھیں تو اس کو سونگھیں اور پھر یہ عمل نہانے اور کپڑے بدلنے کے بعد بھی دوہرائیں۔
کھڑکی کا شیشہ کھولنا
عام طور پر آج کل بیشتر افراد اپنی گاڑیوں میں سفر کے دوران اے سی چلا کر شیشے بند رکھتے ہیں مگر اس کے برعکس اگر آپ شیشہ نیچے کرکے باہر سے آنے والی بو اور آوازوں کو شناخت کرنے کی کوشش کریں تو دماغ کا یاداشت کو پراسیس کرنے والا حصہ ہیپو کیمپس حرکت میں آجاتا ہے۔ اگر یہ حصہ حرکت میں رہے تو درمیانی عمر یا بڑھاپے میں یاداشت کی کمزوری سمیت مختلف مسائل کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
سکوں سے کھیلنا
آپ کا دماغ کسی شے کو جاننے کے لیے آنکھوں پر انحصار کرتا ہے، تاہم اگر کسی چیز کو چھو کر شناخت کرنے کی کوشش کی جائے تو دماغ کے مختلف حصے حرکت میں آجاتے ہیں جس سے انہیں نئی چیزیں جلد سیکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے لیے بس آپ مختلف مالیت کے سکے کسی کپ میں بھر کر رکھ دیں اور انہیں چھو کر ان کی مالیت کا اندازہ لگانے کی کوشش کریں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ سکوں کو جیب میں رکھ کر ہاتھوں کے ذریعے انہیں شناخت کرنے کی کوشش کریں۔
کسی چیز کے مختلف طریقہ استعمال سوچنا
اپنے دماغ کو روزمرہ کی اشیاءکے متبادل کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرنا اسے مضبوط بناتا ہے۔ جیسے آپ کے پاس دستی پنکھا ہو تو آپ تصور کریں کہ وہ ریکٹ، ایک گولف کی اسٹک، مکھیاں مارنے والے ڈنڈے، ڈرم اسٹک، وائلن، بیلچے، مائیکروفون، بیس بال بیٹ یا کچھ اور کے طور پر استعمال ہوسکتا ہے، ضروری نہیں کہ یہ سب حقیقت سے قریب ہو مگر اس سے دماغی افعال کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔
دن بھر میں زیادہ سماجی تعلقات بنانا
سائنسی تحقیق میں کئی بار یہ بات سامنے آچکی ہے کہ سماجی تعلقات سے دوری دماغ کی مجموعی صلاحیتوں کو متعدد منفی نقصانات پہنچانے کا باعث بنتی ہے، تو اس کے لیے کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملنا ہو چاہے اس کے لیے گھر سے باہر نکل کر چھوٹی موٹی اشیاءخریدنے کے لیے ہی کیوں نہ نکلنا پڑے۔
مختلف انداز میں پڑھنا
اپنے دوستوں یا گھر والوں کے سامنے اخبار یا کتاب اونچی آواز سے پڑھیں جس سے آپ کو ایک دوسرے کے ساتھ اچھا وقت گزارنے کا موقع تو ملے گا ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف دماغی سرکٹس بھی حرکت میں آجائیں گے جو خاموشی سے مطالعہ کرنے کے دوران سوئے رہتے ہیں۔
نامانوس پکوان کھانا
اگر آپ ایسا کھانا ہفتے میں یا مہینے میں ایک بار منتخب کریں جو آپ کے لیے بالکل نیا ہو تو اس کی نئی مہک دماغ کے جذبات کے مرکز کو حرکت میں لے آتی ہے جس سے جذباتی طور پر دماغ کو مضبوط ہونے میں مدد ملتی ہے اور یاداشت کا خانہ بھی مضبوط ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
دنیا کی 10 سب سے بڑی چیزیں
Manshah Mohsin
10:35
0
comments
10:35
0
comments
دنیا کا سب سے بڑا جانور کونسا ہے ؟ اچھا مسجد ؟ چلیں پھل کا ہی بتادیں ؟ ہوسکتا ہے کہ آپ کو ان سوالات کے جوابات معلوم ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ نہ ہو مگر دنیا میں ایسے چیزوں کی کمی نہیں جو ہمارے اندازوں سے زیادہ بڑی ہوتی ہیں۔
جیسے پھل کا حجم ہماری توقع سے زیادہ بڑا ہوسکتا ہے، جزیرے کسی ملک جیسے ہوسکتے ہیں اور ایسی چھپکلیاں جن کا سائز انہیں ڈریگن بنادیتی ہیں۔تو ہماری دنیا میں ایسی چیزوں کی کمی نہیں جو اپنے حجم کے لحاظ سے سب سے بڑی کہلائی جاسکتی ہیں اور ان میں سے چند کی تفصیلات و تصاویر آپ کو یقیناً حیران کردیں گے۔
سون ڈونگ غاریں، ویت نام
ویت نام میں واقع یہ غاریں 1991 میں ایک مقامی شخص نے دریافت کی تھیں اور یہ دنیا کا سب سے بڑا غاروں کا سلسلہ قرار دیا جاتا ہے۔ جس کے اندر ایک بڑا دریا بہتا ہے جبکہ اس کی گہرائی 490 فٹ اور لمبائی 30 ہزار فٹ ہے جبکہ اس کے اندر ہوائیں بھرپور رفتار سے چلتی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہر وقت آندھی سی آئی ہوئی ہے۔ تاہم اس کی خوبصورتی دیکھنے والوں کو ضرور دنگ کرکے رکھ دیتی ہے۔
دبئی مال
یہ دنیا کا اب تک کا سب سے بڑا خریداری کا مرکز ہے جو مجموعی طور پر 13 ملین اسکوائر فٹ تک پھیلا ہوا ہے اور اس کے اندر 1200 ریٹیل شاپس موجود ہیں۔ اس میں برف میں اسکیٹنگ کے لیے ایک حصہ مخصوص ہے، زیرآب چڑیا گھر، ایک بڑی آبشار اور مچھلی گھر وغیرہ بھی اس کا حصہ ہے۔ اس کے اوپری حصے میں 22 سینمائ، ایک لگژری ہوٹل اور سو سے زائد ریسٹورنٹس و کیفے وغیرہ بھی موجود ہیں۔
ہاتھی
ہاتھی خشکی پر پائے جانے والے سب سے بڑے زندہ جاندار کا اعزاز اپنے نام رکھتے ہیں۔ ان کی لمبائی 10 سے 13 فٹ اور وزن 15 ہزار پونڈز تک ہوسکتا ہے۔ اس کے ہڈیاں اور جسمانی حصے بالکل مختلف ہوتے ہیں اور ہر ایک کا کام منفرد ہوتا ہے جو اس بڑے جانور کو زندہ رہنے اور روزمرہ کے کام میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس کے بڑے کان اس کے سننے کی حس کو زبردست بنادیتے ہیں جبکہ اس کی سونڈ 5 مختلف کاموں میں مددگار ثابت ہوتی ہے جن میں سانس لینا، بولنا، سونگھنا، چھونا اور چیزوں کو پکڑنا وغیرہ۔
جیک فروٹ
آپ اس عجیب شکل کے پھل کو جنوب مشرقی اور جنوبی ایشیاءمیں دریافت کرسکتے ہیں اور یہ دنیا میں کسی درخت پر اگنے والا سب سے بڑا پھل قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بنگلہ دیش کا قومی پھل بھی ہے اور یہ جسم کے لیے صحت مند فائبر کے حصول کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔
مسجد الحرام
مکہ مکرمہ میں واقع مسجد الحرام دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے جسے اسلامی دنیا کے مقدس ترین مقام کا درجہ بھی حاصل ہے۔ یہ مسجد 88 ایکڑ تک پھیلی ہوئی ہے جس میں مزید توسیع بھی ہوتی رہتی ہے جبکہ یہاں ہر سال حج کا انعقاد بھی ہوتا ہے جو دنیا میں لوگوں کی تعداد کے حوالے سے سب سے بڑا اجتماع بھی ہے۔
گریٹ بیرئیر ریف
دنیا میں مونگوں کی سب سے بڑی چٹان، جو ایک لاکھ 33 ہزار اسکوائر میل پر پھیلی ہوئی ہے، طویل عرصے سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے، مگر ماحولیاتی چیلنجز کے باعث اس مقام کو نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ سمندری درجہ حرارت میں اضافے اور آلودگی کے باعث آئندہ 100 برسوں میں اس قدرتی عجوبے کے تباہ ہونے کا خدشہ ہے جبکہ کچھ ماہرین تو اس سے بھی بڑھ کر خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ 2030 تک ہی یہ مقام مکمل طور پر غائب ہوجائے گا۔
گرین لینڈ
دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ گرین لینڈ کہلاتا ہے اور یہ دنیا میں سب سے کم آبادی رکھنے والا ملک بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اس جزیرے یا ملک کا بڑا حصہ برف سے ڈھکا رہتا ہے اور اس کو گرین لینڈ کا نام یہاں آنے والے اولین اسکینڈے نیوین رہائشیوں نے دیا تھا۔
سلار ڈی یونی سالٹ
چار ہزار اسکوائر میل سے زائد علاقے پر پھیلا سلار ڈی یونی سالٹ دنیا میں نمک کا سب سے بڑا میدان ہے۔ بولیویا کے اس مقام پر پہنچ کو انسان کو لگتا ہے کہ زمین اور آسمان ایک دوسرے سے مل رہے ہیں اور یہ نظارہ حواس پر جادو سا کردیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جو شخص ایک بار یہاں گھوم لے وہ اس جگہ کو کبھی بھول نہیں پاتا۔ خاص طور پر بادلوں و آسمان کو اپنے سر کے اوپر دیکھنے کے ساتھ ساتھ پیروں کے نیچے دیکھنا زندگی کا سب سے حیرت انگیز تجربہ ثابت ہوتا ہے اور دنیا صحیح معنوں میں الٹ پلٹ نظر آتی ہے۔
سیکیویا ٹریز
سیکیویا نہ صرف دنیا کے سب سے بڑے درخت ہیں بلکہ حجم کے لحاظ سے اس سیارے میں پائے جانے والی سب سے بڑی زندہ جاندار کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔ اوسطاً ان درختوں کی لمبائی 160 سے 275 فٹ تک ہوسکتی ہے اور ان کی چوڑائی 20 سے 26 فٹ ہوتی ہے۔ ان درختوں میں ایک ساڑھے تین ہزار سال پرانا درخت بھی موجود ہے اور یہاں کے درختوں کی عمر کا تعین ان کی چھال پر بنے دائروں سے ہوتا ہے۔
نیلی وہیل
اگر آپ کو حقیقی زندگی میں کبھی کسی نیلی وہیل کو دیکھنے کا موقع ملا ہو تو درحقیقت آپ نے سمندری دنیا کے سب سے بڑے جاندار کو دیکھنے تجربہ کیا ہوتا ہے بلکہ جانوروں میں سب سے بڑا بھی قرار دیا جاسکتا ہے جس کے وزن کا مقابلہ بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ سمندروں میں ان کے بے پناہ شکار نے انہیں خاتمے کے قریب پہنچا دیا تھا جس کے بعد 60 کی دہائی میں ان کے شکار پر پابندی عائد کردی گئی۔ اب ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر کے سمندروں میں ان کی تعداد پانچ ہزار سے 12 ہزار تک ہے۔
جرمنی میں 65 سالہ خاتون نے 4 بچوں کو جنم دے دیا
Manshah Mohsin
10:32
0
comments
10:32
0
comments
برلن: جڑواں بچوں کی پیدائش تو اکثر سننے میں ملتی ہے لیکن جرمنی میں
ہوا کچھ مختلف جہاں ایک 65 سالہ خاتون نے ایک ساتھ 4 بچوں کو جنم دے کر سب کو حیران کردیا۔

جرمنی میڈیا کے مطابق دارالحکومت برلن میں دادی بن جانے والی 65 سالہ خاتون نے ایک ساتھ 4 بچوں کو جنم دیا جس میں 3 لڑکے اور ایک لڑکی شامل ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بچوں کی پیدائش آپریشن سے ہوئی جب کہ ان کا وزن 655 گرام سے 960 گرام کے درمیان ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بچوں کی پیدائش وقت سے قبل ہوئی ہے تاہم چاروں بچے صحت مند ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ وہ اسے برقرار رکھ سکیں گے۔ جرمن ٹی وی کے مطابق 4 بچوں کو جنم دینے والی خاتون انیگرٹ راؤنگ اس سے قبل بھی 13 بچوں کی ماں اور 7 بچوں کی دادی ہیں جب کہ خاتون جرمنی میں انگریزی اور روسی زبان کی استاد ہے اور 4 بچوں کی پیدائش کے بعد وہ دنیا کی معمر ترین خاتون بن گئی جس نے 65 سال کی عمر میں 4 بچوں کو جنم دیا۔ جرمن ٹی وی کے مطابق اگرچہ اس عمر کی یا اس سے زائد عمر کی خواتین بچوں کو جنم دے چکی ہیں تاہم اس عمر میں ایک ساتھ 4 بچوں کا جنم دینے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
طلاق کیسے ہو سکتی ہے؟
Manshah Mohsin
10:31
0
comments
10:31
0
comments
مشرقی ممالک کی نسبت مغربی ممالک میں طلاق کی شرح نسبتاﹰ زیادہ ہے۔ جرمنی میں ایک تہائی تو امریکا میں قریب نصف شادیوں کا انجام طلاق پر ہوتا ہے۔ دنیا کے بعض علاقوں میں طلاق کے لیے بہت عجیب قوانین ہیں۔ تفصیلات یہاں دیکھیے۔
شادی ٹوٹنے کی وجہ بننے والے کو جرمانہ
اس قانون میں شوہر یا بیوی کے علاوہ کسی تیسرے شخص کو کوئی شادی ٹوٹنے کا ذمہ دار ہونے پر بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے۔ نیو میکسیکو اور مِسِسپی سمیت امریکا کی سات ریاستوں میں نافذ اس قانون میں متاثرہ پارٹی کو حقائق کے ساتھ یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ فلاں شخص کی وجہ سے اس کی شادی ٹوٹی۔
شرط جیتنے کے لیے شادی
شادی یوں تو کوئی ہنسی مذاق یا کھیل نہیں ہے لیکن امریکی ریاست ڈیلاویئر میں اگر آپ ایسا کر بیٹھیں تو قانون آپ کے ساتھ ہے۔ اگر کوئی شخص ’’مذاق‘‘ یا ’’جوش‘‘ میں آ کر شادی کر بیٹھے تو وہ طلاق کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ ایسے کئی کیسز ہیں جن میں لوگوں نے شراب کے نشے میں دوستوں کے ساتھ بازی لگائی اور مذاق مذاق میں شادی کر لی جسے بعد میں منسوخ کرنا پڑا۔
پارٹنر کا ذہنی عدم توازن
نیویارک میں اگر آپ ثابت کر سکیں کہ آپ پارٹنر دماغی طور پر عدم توازن کا شکار ہے تو اس بنیاد پر آپ طلاق حاصل کر سکتے ہیں۔ شرط ہے کہ شادی کے دوران کم سے پانچ سالوں تک آپ کے پارٹنر کی ذہنی حالت خراب رہی ہو۔
کسی اور سے شادی
آسٹریلیا کے قدیم مقامی باشندوں میں خواتین کے پاس طلاق حاصل کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ ان میں ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کسی اور سے شادی کر لے۔ اس طرح پہلی شادی منسوخ ہو جاتی ہے۔ یہ طریقہ آسان تو ہے، لیکن ظاہر ہے اگلی شادی کا ٹوٹنا بھی اتنا ہی آسان ہوگا۔
طلاق غیر قانونی
فلپائن میں مسلمانوں کے علاوہ باقی لوگوں کے لیے طلاق غیر قانونی ہے۔ اس کے علاوہ 98 فیصد کیتھولک عیسائی آبادی والے ملک مالٹا میں بھی طلاق غیر قانونی ہے۔ 1997ء سے پہلے تک بہت سے یورپی ممالک میں بھی یہی صورت حال تھی جو اب بدل چکی ہے۔
دوری اختیار کرنے سے طلاق
جب اسکیمو لوگ طلاق کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو سب سے پہلے ایک دوسرے سے الگ رہنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح الگ رہنے کا مطلب ہی طلاق ہوتی ہے۔
طلاق کا جشن
نیویارک اور امریکا کے دوسرے بڑے شہروں میں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو طلاق پارٹی منعقد کرتے ہیں۔ کئی بار انتہائی پرجوش اور بھڑکیلے انداز والی تو کبھی کبھار کافی پرسکون طلاق پارٹیاں بھی ہوتی ہیں۔ جن میں طلاق لینے والی عورت یا مرد اپنے دوستوں اور ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ لاس ویگاس، لاس اینجلس اور نیو یارک جیسے شہر ایسی پارٹیوں کا گڑھ ہیں۔
مصر کے آدھے مرد اپنی بیگمات کے ہاتھوں پٹتے ہیں: سرکاری رپورٹ میں انکشاف
Manshah Mohsin
10:29
0
comments
10:29
0
comments
پاکستان میں خواتین پر تشدد کے خلاف جاری”وائٹ ربن”مہم کے جلو میں مصر سے آنے والی ایک خبر میں دعوی کیا گیا ہے کہ عرب دنیا کے اس اہم ثقافتی مرکز کے نصف مرد اپنی بیگمات کے ہاتھوں پٹتے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مردوں کے لیے لمحہ فکریہ رپورٹ مصر کے الاقصر ڈائیلاگ وڈویلپمنٹ سینٹر کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ سرکاری سطح پر تیار ہونے والے یہ رپورٹ الاقصر شہر میں قائم خواتین کی قومی کونسل کی ایک تقریب کے دوران پیش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مصر میں بیویوں کے ہاتھوں اپنے شوہروں پر تشدد کے واقعات 50.6 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ ناخواندہ اور کم پڑھی لکھی بیویاں اپنے شوہروں کی زیادہ پٹائی کرتی ہیں۔ یوں 87 فیصد ان پڑھ یا معمولی تعلیم یافتہ خواتین کے ہاتھوں شوہروں پر تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ بیگمات کی جانب سے تشدد کے 5.63 فیصد واقعات میں تیز دھار آلات کا استعمال کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق شوہروں پر تشدد کرنے والی ایک تہائی بیویاں اپنے کیے پر نادم نہیں ہوتیں بلکہ اس پر خوشی اور فخر کا اظہار کرتی ہیں۔
ادھر مصر کے قومی ادارہ شماریات کی جانب سےخواتین سے صنفی امتیاز کی روک تھام کے لیے منائے گئے عالمی دن کے موقع پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہر چار میں سے ایک خاتون، مردوں کے ہاتھوں جسمانی تشدد کا نشانہ بن رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 30 فیصد خواتین نے اپنے شوہروں کے خلاف جسمانی، جنسی اور نفسیاتی تشدد کی شکایات درج کرائیں۔ جسمانی تشدد کے علاوہ خواتین پر شوہروں کے ہاتھوں جنسی اور نفسیاتی تشدد کے مظاہر بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ شوہروں کے ہاتھوں جسمانی تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کی تعداد 25.2 فیصد ہے جب کہ جنسی تشدد بہت کم ہے مگر آہستہ آہستہ میں اس میں تیزی آ رہی ہے۔ انیس فیصد خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں شوہروں کی جانب سے نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پرائمری تک تعلیم یافتہ خواتین شکایت کندرگان خواتین کی تعداد 25 فیصد، میٹرک اور اسے سے اوپر پڑھی لکھی عورتوں کی 32.4 فیصد بتائی گئی ہے۔ ساحلی علاقوں میں 29 فیصد خواتین نے شوہروں کے ہاتھوں تشدد کی شکایات کیں جب کہ صحرائی اور دیہی علاقوں میں خواتین کی جانب سے تشدد کی شکایات کا تناسب 25.5 فیصد رہا۔ شہری علاقوں میں بھی 29 فیصد خواتین نے شوہروں کے ہاتھوں تشدد کی شکایت کی۔